بطور ایک سپورٹر میں یہ سمجھتی ہوں کہ عمران خان کے دور حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور کا موازنہ کیا جائے تو عام آدمی کی زندگی میں واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔
میرے خیال میں کسی بھی حکومت کے منصوبے اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، لیکن اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ منصوبے عام آدمی تک کس حد تک پہنچتے ہیں اور ان پر کتنا مؤثر عمل درآمد ہوتا ہے۔
پچھلے دور میں عام لوگوں کو نسبتاً زیادہ ریلیف محسوس ہوتا تھا۔ مہنگائی آج کے مقابلے میں کم تھی اور روزمرہ زندگی کے اخراجات کچھ حد تک قابو میں تھے۔ اس وقت کرونا جیسے مشکل حالات میں بھی معاشی اور سماجی طور پر حالات کسی حد تک مستحکم رکھنے کی کوشش کی گئی، جس سے عوام کو سہارا ملا۔
صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ جیسا بڑا منصوبہ موجود تھا جس کے ذریعے غریب اور متوسط طبقے کو مفت علاج کی سہولت حاصل تھی۔ اسی طرح پناہ گاہیں بھی قائم کی گئی تھیں جہاں غریب، مزدور اور بے گھر افراد کو مفت کھانا اور رہائش فراہم کی جاتی تھی۔ یہ اقدامات عام آدمی کے لیے عملی فائدہ رکھتے تھے۔
عام طور پر اس وقت:
روزمرہ کی اشیاء نسبتاً سستی تھیں
پیٹرول، بجلی اور گیس کے اخراجات کم محسوس ہوتے تھے
درمیانی طبقے کو کچھ مالی ریلیف ملتا تھا
عام آدمی کا بجٹ بہتر طریقے سے چل جاتا تھا
آج کے وقت میں بھی مختلف حکومتیں بڑے بڑے منصوبے بناتی ہیں، اور ان کا مقصد بھی عوامی فلاح ہی ہوتا ہے۔ لیکن ایک عام رائے یہ بھی ہے کہ اگر مہنگائی زیادہ ہو جائے تو ان منصوبوں کا فائدہ عام آدمی تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتا۔ جب روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہوں، بجلی اور پیٹرول کے بل زیادہ ہوں تو پھر فلاحی منصوبوں کے باوجود بھی عام آدمی پر مالی دباؤ برقرار رہتا ہے۔
اسی وجہ سے میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کی کامیابی صرف منصوبے بنانے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ منصوبے زمینی سطح پر عام آدمی کی زندگی میں کتنا فرق ڈالتے ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق عمران خان کے دور میں عام آدمی کو زیادہ براہِ راست ریلیف محسوس ہوتا تھا، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں مہنگائی کے باعث وہ فائدہ اتنا واضح طور پر نظر نہیں آتا۔بطور ایک سپورٹر میری رائے میں عمران خان کے دور حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں سب سے بڑا فرق مہنگائی اور عام آدمی کو ملنے والے ریلیف میں نظر آتا ہے۔ پچھلے دور میں مہنگائی نسبتاً کم تھی، روزمرہ زندگی کے اخراجات قابو میں تھے اور ہیلتھ کارڈ، پناہ گاہوں اور دیگر فلاحی منصوبوں سے عوام کو براہِ راست فائدہ ملتا تھا۔ آج کے وقت میں مہنگائی میں واضح اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے روزمرہ اشیاء، بجلی، پیٹرول اور علاج معالجہ عام آدمی کے لیے زیادہ مہنگا اور مشکل ہو گیا ہے۔
Politics
Imran Khan vs PML-N
Summary
بطور ایک سپورٹر میری رائے میں عمران خان کے دور حکومت اور آج کے وقت میں سب سے بڑا فرق عام آدمی کو ملنے والے ریلیف اور مہنگائی کے اثرات میں نظر آتا ہے۔ پچھلے دور میں مہنگائی نسبتاً کم تھی، روزمرہ زندگی کے اخراجات قابو میں تھے اور ہیلتھ کارڈ، پناہ گاہوں اور دیگر فلاحی منصوبوں سے عوام کو براہِ راست فائدہ ملتا تھا۔ آج کے وقت میں مہنگائی میں واضح اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے روزمرہ اشیاء، بجلی، پیٹرول اور علاج معالجہ عام آدمی کے لیے زیادہ مہنگا اور مشکل ہو گیا ہے۔ میری رائے میں اصل فرق منصوبوں سے زیادہ ان کے عملی اثر اور عوام تک پہنچنے والے ریلیف میں نظر آتا ہے۔
Content
×
Comments
Sign in to join the conversation